دس دن کی جنت ۔۔

بشکریہ گوگل


دس دن کی جنت 
 

ہر انسان جنت کا خواہش مند ہے مگر نہیں جانتا کہ اس کے نصیب میں ہے بھی یا نہیں؟

بحیثیت مسلمان ہم آسمانی اور زمینی دونوں جنتوں کے عشق میں مبتلا ہیں ۔ 
اور عشق بھی ایسا کہ جو مجنوں کو شرمانے پر مجبور کردے  ہر پہاڑ کی تصویر دیکھ کر دل ہمک اٹھتا ۔ایک تو کم عمری میں جس نے بھی مستنصر حسین تارڑ صاحب ۔ہمارے چاچا جی کے افسانے اور سفر نامے پڑھ لیے وہ کہیں کا بھی نہیں رہتا اور ہماری قسمت کہ ہم نے پہلا سفر نامہ ہی"  سفر شمال  کے "پڑھا .
, لفظوں کی جادو گری دل میں جو اتری تو  پھر کہیں سکون نہ آیا ابن بطوطہ کی بے چین  روح وجود میں بس گئی ۔
کسی کلینڈر پر بھی پہاڑ دیکھ لیتے تو آہ نکل جاتی ۔موبائل تو تھا نہیں جو کھٹاکھٹ انگلیاں چلا کر جو چاہتے دیکھ لیتے ۔پی ٹی وی کا دور تھا اور ہمارا بچپن ۔۔۔
اچھی بچیوں کی طرح بڑے ہونے کا انتظار کرتی رہے پھر ہمیں بتایا گیا کہ لڑکیاں شادی کے بعد میاں کے ساتھ جاتی ہیں۔ اب صبروشکر کے ساتھ شادی کا لڈو بھی کھا لیا ۔مگر اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ  اگست دہ ہزار پانچ  میں شادی ہوئ اور نومبر میں جانا تھا آٹھ اکتوبر کو ایسا زلزلہ آیا کہ سب تہس نہس ہو گیا ۔ اب تو فیملی ڈر گئی.
  کون سے پہاڑ؟ کہاں کے پہاڑ ؟

 ہم نے امید کے دیے کو بجھنے نہیں دیا ۔اور بچوں کی پرورش میں لگ گئے۔
 عشق کی شمع روشن تھی اور پھر ایک دن یہ خوش خبری ملی کہ ہمارا کشمیر کا ٹور دن ہو گیا ہے ۔
ہمار ی تو خوشی کی انتہا نہ تھی برسوں جو خواب دیکھا وہ سچ ہونے جارہا تھا ۔  پہاڑ ہمیں بلاتے تھے اور ہم چلے جاتے تھے 
جاری ہے 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے