image by google
مدھر لمحوں کی گنگناتی آبشاروں
مہکتی پروا کالی گھٹاؤں کے سنگ
خوش رنگ بہار کے اوائل میں،نرم کلیوں کی تازگی لیے
شبنم کے مو تیوں سی نازکی لیے
برستی بوندوں کا گنگناتا ترنم
جھلملاتے تاروں کی چمکتی ضیاء،
،ایک نازک سی پری
اپنے کومل وجود میں سمیٹے،
،ہمارے چھوٹے سے آنگن میں مسکرائی،
میری دعا ہے
اپنے وجود کی تمام خوبصورتی کے ساتھ
دنیا کی
گرم ہوا سے دور
ہر فکر کو پریشانی سے آزاد
خوشیوں کی بہار کے سنگ
،اپنے لبوں پر مسکراہٹ کی کلیاں کھلاتی رہے
شاعرہ۔۔۔ نیر فہیم خان


0 تبصرے