image by google
سرمئی بادلوں تلے
رم جھم پھوار کے سنگ
ہم بھیگتے تھے
کاغذ کی کشتی
پانی میں بہا کر
خوش ہوتے تھے
مگر وہ بچپن کے کھیل
وہ سنگ ساتھی
سب بچھڑ گئے
میں آج
اسی رم جھم پھوار کے سنگ
بچھڑے ساتھیوں کی
کھوج رہی ہوں ۔
شاعرہ ۔نیر فہیم خان
image by google
سرمئی بادلوں تلے
رم جھم پھوار کے سنگ
ہم بھیگتے تھے
کاغذ کی کشتی
پانی میں بہا کر
خوش ہوتے تھے
مگر وہ بچپن کے کھیل
وہ سنگ ساتھی
سب بچھڑ گئے
میں آج
اسی رم جھم پھوار کے سنگ
بچھڑے ساتھیوں کی
کھوج رہی ہوں ۔
شاعرہ ۔نیر فہیم خان
سفرنامہ/مضامین/گھراورگھرانہ
۔ نیر فہیم خان گول گلی کچھ انوکھی ہی تھی ۔چھوٹی بڑی گلیوں کے بیچ یہ متوسط طبقے کا علا…
0 تبصرے