بچپن کی بارش

 image by google

سرمئی بادلوں  تلے 

رم جھم پھوار کے سنگ 

 ہم بھیگتے تھے 

کاغذ کی کشتی

 پانی میں بہا کر 

خوش ہوتے تھے 

مگر وہ بچپن کے کھیل

 وہ سنگ ساتھی  

سب بچھڑ گئے 

 میں آج 

اسی رم جھم  پھوار کے سنگ 

 بچھڑے ساتھیوں کی 

کھوج رہی ہوں ۔

شاعرہ ۔نیر فہیم خان 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے