چپ

image by google

 کبھی کبھی چپ رہنا 

کتنا اذیت ناک ہوتا ہے 

ایسے وقت میں 

جب ان گنت لفظ

 لبوں کے بند کے پیچھے

 ،تڑپتے ہیں 

 مچلتے ہیں، پھڑپھڑاتےہیں 

دل میں اتر جانے والے لاوے  کو 

بہننے کے لیے راہ بنانی ہو

زخموں کے رستے لہو کو 

سلگتی آگ  کے قاتل  دھویں کو 

روزن ڈھونڈنا ہو ۔

  کہ جس میں قید رہنے سے

 جسم میں جان سلگتی ہو

دھڑکن عذاب بنتی ہو 

وجود کو توڑتے پھوڑتے 

 لبوں کے بند کے پیچھےوہ قید  لفظ 

سانسوں کو الجھاتے ہوں

 ابلتے لاوے کورہ دینی ہو

 ہو کسی لاوے  کو  راہ دینی ہو

سلگتے الاؤ  کو کبھی جو سرد کرنا ہو 

 جو وجود جان کو  کو عذاب دیتی دھڑکنوں کو

 نیا احساس دینا ہو

ایسے میں چپ رہنا ناک ہوتا ہے۔

شاعرہ۔۔ نیر فہیم خان 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے