image buy google
" گجرے "
زندگی کے شب و روز ،
ذمہ داریاں ،
بھاگ دوڑ ،
وقت ریشم کا پھسلتاگولا،
سنبھالتے سنبھالتے بھی الجھے جائے،
صبح سے شام اور عمر تمام،
کل کی فکر ،
مستقبل کی سوچ،
پانی نہیں بجلی نہیں گیس نہیں کاروبار نہیں ،
کرو نا کی آمد ،ہاۓ قرب قیامت،
کاروبار بند ہو تو خوشیوں کے دروازے بھی جیسے بند ہونے لگتے ہیں۔
موٹر سائیکل کی پچھلی سیٹ پر بیٹھے بیٹھے اسے یک قدم وحشت ہونے لگی تھی۔
کمال مسلسل بڑبڑا رہے تھے۔ انہیں سڑک پر چلنے والے ہر شخص پر غصہ آ رہا تھا۔
ان کا بس چلتا تو تمام کاروں اور بڑی گاڑیوں ان کے مالکان کے سامنے آگ لگا دیتے۔
مگر شہر کراچی میں نہ کوئی ڈھنگ کی بس چلتی ہے۔
نہ ہی کسی کا بس چلتا ہے۔
بس چلتا ہے تو صرف حکومت کا ڈنڈا۔۔۔۔
عوام مار کھا کے ادھ موئ ہوئے جا رہی تھی۔
کمال کی مسلسل بڑبڑاہٹ اس کے اعصاب پر بوجھ بننے لگی تھی مگر وہ کچھ نہیں کر پا رہی تھی کیونکہ کمال کے سامنے اس کا بھی بس نہیں چلتا تھا۔
موٹر سائیکل رکی۔
سگنل سرخ ہو گیا تھا۔کمال نے کھا جانے والی نظروں سے سرخ روشنی کو دیکھا ۔
جیسے ان کی زندگی میں آنے والے تمام مسائل کی جڑ وہی تو ہو۔
اچانک کی بھینی بھینی خوشبو نے جیسے سے جنت کی کھڑکی کھول دی ہو ۔
موتیا ۔۔۔۔
دل بے اختیار مچلا ۔
بارہ تیرا سالہ بچہ گجرے لیے کھڑا تھا۔ باجی گجرے لے لیں۔
موتیے کا موسم۔
ادھ کھلی نازک سی کلیاں ۔۔
سب کچھ ایک دلپسند منظر میں ڈھلنے لگا۔
اس نے بے تابانہ انداز میں گہری سانس لے کر دلفریب خوشبو کو اپنی اندر اتارا۔
موتیے کی خوشبو اسے بے اتنہا پسند تھی۔
یہ خوشبو اسے پریوں کے دیس کی سیر کراتی تھی۔
اس کو وہ خوشی دیتی تھی جس کا کوئی مول نہ تھا ۔
نہیں چاہیے ۔۔۔۔
کمال کی کرخت آواز نازک خیالات پر بھاری پتھر بن کر پڑی تھی ۔
ہر طرف ارتعاش پھیل گیا تھا۔۔
سحر ٹوٹ گیا تھا۔
وہی بے ہنگم ٹریفک ۔
پان چباتے اور بے تکلفی سے ادھر ادھرتھوکتے نوجوان ۔
خواہ مخواہ ہارن بجاتے ہوئے بے صبرے ڈرائیور ۔۔
اور۔۔اور وہی کمال۔۔۔
باجی سستے لگا دوں گا۔
بچے کے لہجے میں لجالت تھی۔
بچے کو خود بھی اندازہ نہیں تھا وہ ایک انمول شے کو بے مول کر رہا تھا ۔
جاؤ بھاگو یہاں سے ۔۔۔۔
کمال نے جھڑک دیا ۔
انہیں ان سفید پھولوں کی پاکیزگی پر رحم آیا نہ معصوم کلیوں کی ادھ کھلی مسکراہٹ پر اور نہ ہی مہکتی دل لبھاتی خوشبو پر۔۔۔۔
پھول سا بچہ پھولوں سے پہلے ہی مرجھا گیا۔
خوامخواہ کے چونچلے۔۔۔
پھول بھی کہاں سستے ہیں۔
اتنی مہنگائی ہو رہی ہے دو گجرے اس قیمت میں آتے ہیں کہ بندہ ایک لیٹر پٹرول خرید لے ۔ ان کی ہر تان پیٹرول پر ہی ٹوٹتی تھی۔
بچہ ڈانٹ کھا کر مایوس ہو کر جانے لگا۔
دلفریب مہکتی کلیاں جدا ہو رہی تھی
۔سگنل کھل گیا اور موٹر سائیکل تیزی سے آگے بڑھی ۔
پل بھر میں خوشبو جدا ہوگئ۔
وہ کمال کو کہہ نہ سکی کہ یہ گجرےکی مہک عورت کی روح کو سرشار کرتی ہے ۔ کی تھکن اتار دیتی ہے ۔محرم مرد کی طرف سے ملی محّبت جب ادھ کھلی کلیوں سے ملتی ہے ۔تو دل ودماغ کیسا اطمینان وسکون ملتا ہے کہ جس کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل تھا
۔کاربن ملا دھواں فضا میں حکومت کر رہا تھا ۔ پھولوں والا بچہ پیچھے رہ گیا تھا۔ ۔۔بہت پیچھے۔۔۔،،🌼🌼🌼🌼🌼🌼🌼🌼🌼
مہران سڑک پر دوڑ رہی تھی ۔ڈرائیو کرتا اسد فون پر مصروف تھا ساتھ بیٹھی ثنا پر گاہے بگاہے نظر ڈالتا جس کے چہرے پر تکلیف کے آثار تھے۔
بس پہنچنے والا ہوں۔
میری بیگم کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے ان کو ان کی مدر کے گھر چھوڑنا ہے ۔
اکیلے گھر میں ہوں گی تو میں پریشان ہی رہوں گا۔
اسد کی بہت اہم پریزنٹیشن تھی وہ پوری توجہ اپنی پریزنٹیشن کو دینا چاہتا تھا مگر ثنا کی تکلیف کی وجہ سے وہ ذہنی طور پر ڈسٹرب تھا۔ شادی کو سال بھر ہی ہوا تھا والدین اللہ کو پیارے ہوگئے تھے ۔
دونوں بہنیں دور دراز کے شہروں میں مقیم تھیں۔ثناء کی طبیعت کی خرابی اور آفس میں کام کے دباؤ نے اسے کچھ چڑچڑا کر دیا تھا ۔
ابھی بھی وہ سخت تناؤ کے عالم میں تھا ۔
ثنا تکلیف کی وجہ سے حسساس ہو گئی تھی۔بات بات پر دل بھر آتا ۔۔
فون بند کرکے اس نے ثنا کو دیکھا جس کے چہرے پر تکلیف ایک مہر کی طرح ثبت تھی ۔
اسد کے دماغ میں ٹینشن کی لہر ابھری ۔تم کو بھی کتنا سمجھایا تھا کہ کھایا پیا کرو ۔
اپنا دھیان رکھو ۔
مگر تم کو جو کرنا ہے بس وہی کرنا ہے۔
مانتی کہاں ہو میری بات ۔
لہجہ درشت تھا۔
جان بوجھ کر نہیں کرتی ہوں طبیعت ہی اتنی خراب ہے کیا کروں ؟
ذرا سا کھالوں تو اتنی بری طرح دل متلاتا ہے کہ حد نہیں۔
سارا نظام درہم برہم ہو گیا ہے ۔
نقاہت
اس کے لہجے سے عیاں تھی ۔
یار اس دنیا میں پہلی بار تو یہ سب نہیں ہورہا ۔
ہر عورت بچہ پیدا کرتی ہے یہاں تو ایسے عورتیں بھی ہیں جو رات کو میاں سے مار کھاتی ہیں اور صبح بچہ پیدا کرتی ہیں۔
تم کو تو ساری آسائش میسر ہیں میں بھی خیال کرتا ہوں اچھی خوراک ۔مہنگا ٹریٹمنٹ۔ مگرتم صحت مند ہونے کے دن بدن کمزور ہوتی جا رہی ہوں میرابھی کون سا تجربہ ہے۔ میں پہلی بار باپ بن رہا ہوں۔ وہ ایک بہترین مقرر تھا ۔
اور اپنا فن مقرری ہر بار اس پر اس انداز سے آزماتا کہ وہ اس کے دلائل کے دریا میں بہتی چلی جاتی اور اپنے دفاع کے لئے کچھ بھی نہ کہہ پاتی ۔ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ! بچہ پیدا کرنا کون سا ایسا مشکل کام ہے ۔ساری دنیا کی عورتیں کرتی ہیں۔ثنا کہنا چاہتی تھی مگر لب کاٹتے چپ رہی۔سرخ بتی نے اچانک راستہ روکا۔
سگنل آن تھا ۔
چند لمحوں کے لیے زندگی رک سی گئی تھی ۔
ثناء نے اسد کی زہریلی باتوں کا اثر کم کرنے کے لئے گہری سانس لی تو پھولوں کی نہایت لطیف خوشبو نے اس کے دل و دماغ پر چھائی کثافت دھو ڈالی۔
میلے سے حال میں ایک بچہ کھلتے پھول لیے کھڑا تھا ۔
چہرہ میں اور تیز دھوپ کے اثرات کی بدولت سیاہی مائل تھا۔ ۔
اسد پھول ۔۔۔۔
اس کے منہ سے بے اختیار نکلا۔۔
کیا ؟
اس کا لہجہ اجنبیت لیے ہوے تھا ۔
تم پڑھی لکھی ہو ثنا ۔۔۔۔
جانتی ہو ناں۔۔۔
اس حالت میں ہر قسم کی احتیاط ضروری ہے۔
اچھے اور فریش پھول ہیں۔بچے کی آنکھوں میں امید تھی۔
نہیں چاہیے۔۔۔۔
اس نے ہاتھ ہلا کر انکار کیا ۔
صاحب لے لو صبح سے ایک بھی نہیں بکا۔۔۔
ہاں تو اس کرو نا بھرے ماحول میں کون تم سے گجرے لے گا۔
نہ جانے کتنے ہاتھوں سے گزر کر آتے ہیں انتہائی خطرناک۔۔۔
خدانخواستہ کوئی روبیلا یاکرونا وائرس کے پھولوں کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو جائے گا تو کیا ہوگا؟
جانتی ہوناں۔۔۔
یہ ہمارے بچے کے لیے کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ۔میں کسی قسم کا کوئی رسک نہیں لے سکتا۔
جہاں یہ اسے اس نے کہتے ہوئے کار کا شیشہ چڑھا دی ہے ثنا کے اندر گھٹنے بڑھنے لگی تھی ۔
احتیاط کیا کرو۔۔
کسی بھی قسم کی الرجی ہو سکتی ہے وہ کہے چلا جا رہا تھا۔۔ گٹھن بڑھتی جارہی تھی سگنل کھل گیا زندگی رواں ہو گئ ۔پھول والا بچہ پیچھے رہ گیا ۔۔
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
لینڈ کروزر کارپیٹڈ روڈ پر سفر کر رہی تھی۔ماحول نہایت پرسکون تھا جیسے کسی پرسکون سے جھیل میں راج ہنس تیر رہے ہوں۔گاڑی میں بہترین ایئرفریشنرکی خوشبو تھی۔گارڈ پیچھے بیٹھے تھے ۔ڈرائیور بڑی مستعدی سے ڈرائیو کر رہا تھا ۔کالے شیشے والی گاڑی گاڑی بڑی شان سے رواں تھی ۔اچانک سگنل سرخ ہوا۔
سائیں کے ماتھے پر بل پڑ گئے ۔جیسے گاڑی کا رکنا سخت ناگوار گذرا ہو ۔سائیں سگنل ۔۔۔۔
ڈرائیور نے آہستگی سے کہا کہ جیسے یہ اس کا ذاتی قصور ہو۔
شہر میں یہی مصیبت ہے۔
ٹکے ٹکے کے لوگ ہمارا راست روک لیتے ہیں۔
گاؤں میں کسی کی ہمت نہیں جو ہماری سواری کو روک سکے ۔
اس نے حقارت سے ٹریفک وارڈن کو گھورا۔
آپ تو بادشاہ ہوسائیں۔۔۔۔
شہر والوں کو کیا پتہ گاؤں میں تو آپ کے حکومت ہے شہر والے آپ کی بادشاہی کیا جانیں ۔
ڈرائیور نے خوشامد کی مگر سائیں کے ماتھے پے بل کم نہ ہوئے۔
سیاہ شیشوںسے کچھ دور خوبصورت پھول لیے ایک بچہ کھڑا تھا۔
سائیں کی خوبصورت کم عمر بیوی بھی ساتھ تھی ۔
اس کی نظر بچے پر پڑی ۔۔۔۔
نظر ٹہر سی گئی۔
گجرے سائیں ۔۔۔۔
اس نی بے۔ اختیار اپنا نرم۔ہاتھ سائیں کے ہاتھ پر رکھا ۔
کالے شیشوں والی گاڑی کا اتنا رعب تھا کہ بچے نے بڑھنے کہ ہمت ہی نہ کی۔۔
سائیں نے گھور کر اپنی نازک اندام بیوی کی طرف دیکھا۔
دماغ تو ٹھکانے ہے تمہارا یا بالکل ہی چری ہو گئ ہو ۔
اب کیاسائیں شاہنواز روڈ پر گاڑی روک کر تمہارے لیے گجرے لے گا۔
اس کے دبے لہجے میں بھیڑیئےجیسی اور غراہٹ تھی۔
اپنی حیثیت پہچانو ۔
تم کوئی عام عورت نہیں ہو سائیں شاہنواز کی بیوی ہو۔
کوئی بازاری عورت نہیں جو پھولووں کا سنگھار کرو ۔
سونا چاندی ہیرے جواہرات سب کچھ تو ہے تمہارے پاس۔۔
عام عورتوں کی طرح پھولوں پر مر رہی ہو۔
خون خوار نگاہیں۔سخت لہجہ۔۔کرخت نقوش ۔ دل چیرنے والے الفاظ ۔۔ وہ اندر سے مر سی گئی۔
مہنگے ایر فریشنر سے گاڑی مہک رہی تھی۔
مگر مٹی سے نکلنے والے چھوٹے سے بوٹے کی خوشبو اس کی حیثیت کے مطابق نہ تھی ۔۔۔گاڑی رواں دواں تھی ۔۔،🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
شام کا اندھیرا پھیلنے لگا تھا ماں نے کہا تھا کہ گھر جلدی آنا۔
سارا دن سڑکوں پر خوار ہوتے ۔گاڑیوں کے پیچھے بھاگتے گذر گیا تھا ۔
دن بھر کی محنت کی کمائی میٹھی بھر سے زیادہ نہ تھی ۔
اس نے ہاتھ میں پکڑی اسٹک کو دیکھا ابھی بھی دو گجرے باقی تھے ۔اصف اس کے پاس آیا ۔۔
کیا ہوا علی یہ نہیں بکے ۔۔۔
۔جی آصف بھا ی ۔
۔یہ بھی بک جاتے تو اچھا ہوتا ۔۔لوگ بہت سخت دل ہوتے ہیں پھولوں کی نرمی اثر ہی نہیں کرتی۔
وہ بہت اداس تھا ۔
ہاں یار ٹھیک کہتے ہووقت بہت بدل گیا ہے۔ایک پھول سے بچے کے ہاتھ میں پھول دیکھ کر دل میں نرمی آھی جانی چاہیے ۔
چلو کوئی بات نہیں۔۔
یہ گجر ےمجھے دے دو۔تمہاری بھابھی کو تو بہت پسند ہیں پھول ۔۔۔۔
سچ ۔۔۔۔
ہاں بالکل۔
میں بھی آٹھ سو روپے دیہاڑی کمانے والا مزدور ہوں۔
سارا دن لوگوں کے آگے چائے رکھتا ہوں۔
اور ٹیبلیں صاف کرتا ہوں ۔تو چند روپے میرے ہاتھ میں آتے ہیں۔
اب سونا چاندی تو میرے بس کی بات نہیں ہے۔
پھولوں کا تحفہ ہی سہی ۔۔۔۔
۔تم بھی خوش وہ بھی خوش ۔۔
بھا بھی کے لیے لے رہے ہیں تو پیسے نہ دیں ۔
ارے نہیں اپنی بیگم کو اپنی کمائی کا تحفہ دینے کا مزہ ہی الگ ہے ۔۔۔
اچھا پھر ریٹ ٹو ریٹ لے لیں ۔۔
نہیں علی ۔۔۔۔
تمھارا ذرا سا تو منافع ہوتا ہے میں اپنے چھوٹے بھائی کا منافع کھاتا اچھا لگوں گا ۔یہ پورے پیسے رکھ لو شاباش ۔۔۔
آصف بھائ آپ بہت امیر ہیں ۔۔۔
یہاں سے ۔۔۔
۔علی نے اس کی محبت محسوس کرتے ہوے دل کے مقام پر انگلی رکھی ۔
اور تم پورے ہیرا ہو ۔۔۔ وہ ہنس دیا چلو اب گھر جاؤ خالہ انتظار کر رہی ہوں گی ۔
جی بھای ۔۔
دونوں اپنی راہ ہو لیے۔۔
اگلے دن کی آزمائش کے لیے تیار ۔۔۔۔پھولوں کے گجرے ایک معمولی مزدور کے ہاتھ میں تھے۔
وہ تصور میں خوش ہو رہا تھا کہ جب وہ یہ گجرے اپنی بیوی کو دے گا تو وہ کتنا خوش ہو گی۔سچ ہے کہ پھول انمول ہوتے ہیں ۔
ان کی قیمت نہیں ہوتی ۔
ان سے محبت ہوتی ہے ۔
جو دل۔ سے پھو ٹتی ہے ۔۔
اور جو ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتی 🏵️🌻🏵️🌻🏵️🌻🏵️🌻🏵️🏵️۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمت بالخیر۔۔۔۔۔۔۔🏵️
نیر فہیم خان


0 تبصرے