image by google
کمرے میں داخل ہوتے ہی اس کا دماغ بھک سے اڑا تھا ۔اسکول بیگ اسٹور کے پاس اس طرح لائن لگا ہوۓتھے جیسے کہ عوام یوٹیلیٹی سٹور پر چینی کے لیے لگاتی ہے۔
موزوں کا لاوا بہ رہا تھا ۔
جوتے موزے الگ اوندھے منہ زمین پر پڑے تھے۔
پینٹ تکیے کے ساتھ راز ونیاز میں مصروف تھیں
۔جںکہ شرٹ ان کی بے گانگی پر شکوہ کناں باہیں پھیلائےہوے تھیں ۔
اف یہ بچے۔۔
پتا نہیں کون کہتا ہے کہ جو عمل بچوں کے سامنے کرو وہ اسی کو سیکھیں گے۔
یہاں تو عملیات بھی کرلوں تو ان جنوں پر کوی اثر نہیں ہو گا۔۔
بھلا بتاؤ سکول سے آکر کپڑے تبدیل کرنا کون سا ایسا مشکل کام ہے جو اتنا پھیلاوا پھیلا دیا جاتا ہے۔
ہر بار بتاتی ہوں مگر مجال ہے کہ ان کے بالوں میں وہ جوں پیدا ہو جائے جو ان کے کانوں پر رینگ سکے ۔
وہ جھنجھلا تی بڑبڑاتی سامان سمیٹ رہی تھی ۔
راحم اشمان ۔۔۔وہ دھاڑی تھی ۔۔۔
جی مما۔۔۔وہ جلدی جلدی عمامہ باندھ رہے تھے۔اسکول سے آکر مدرسے جانے میں صرف آدھا گھنٹہ ہی ملتا تھا۔
وہ بھی پر لگا کر اڑ جاتا اگر دیر ہو جاتی۔
تو قاری صاحب سخت ناراض ہوتےتھے۔ڈنڈے پڑنے کا الگ خطرہ تھا۔ ۔سو بچے بھاگنے بھاگ اسکول سے آتے اور مدرسے کی تیاری کرتے۔جلدی جلدی یونی فارم اتار کر مدرسے کے کپڑے پہنتے ۔سپاروں کا بیگ اٹھا کر کبھی بھوکے تو کبھی ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ دو چار لقمے کھا کر بھاگ جاتے ۔اج پھر ہینگر نہیں کیے ۔۔۔
اس ک غصہ سوا نیزے پر تھا ۔۔۔
مما پلیز۔ دیر ہو رہی ہے۔اشمان کے لہجے میں لجالت تھی ۔
اچھا کھانا تو کھاؤ۔۔۔
نہیں آکر کھا لیں گے ۔ابھی دس منٹ راستے میں لگیں گے۔ سدا کے کھانے کے چور حذیفہ کو کھانا نہ کھانے کا ایک اور موقعہ مل گیا تھا ۔۔۔۔۔
تو بھوکے جاؤ گے ۔۔۔۔
آکر کھا لیں گے مما ۔۔۔
پلیز دیر ہو رہی ہے ۔کھانا کھائیں گے تو مدرسے میں ڈنڈے بھی کھانے پڑیں گے ۔۔اللہ حافظ۔۔
وہ ہاتھ چوم کر بھاگ گئے۔
بے چارے بچے۔۔۔۔۔
اس کو ترس اگیا۔جلدی قرآن پاک مکمل ہو تو آسانی ہو ۔
ڈھنگ سے کھانا بھی میں کھا پاتے۔۔۔۔۔
کاش کہ آنے وسائل ہوتے کہ قاری صاحب کی خدمات حاصل کر سکتے۔۔اسکول کی فیس ہی بمشکل جمع ہوتی تھی ۔۔وہ سوچتی ہوئ آگے بڑھی۔
لو۔۔۔۔لوشن لگا لیا مگر ڈھنگ سے ڈھکن بند نہیں کر سکتے۔۔۔۔اور مجال ہے کہ کنگھا بھی ٹھکانے لگا دیں ۔
کچھ دیر پہلے امڈتی ہمدردی اور ممتا کی لہر اڑن چھو ہو گئی تھی ۔۔۔پھر سے جھنجلاہٹ سوار ہوگئ،،🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
زونی ۔۔۔کہاں ہو۔؟۔
وہ کچن میں برتن سے نبردآزما تھی۔ ان کی آواز سن کر بوکھلا گئی۔
آنٹی اور اس وقت۔۔۔۔
اس نے ایک نظر اپنے خود پر ڈالی۔حلیہ ابتر ہو رہا تھا صبح سے کام میں مصروف تھی۔۔۔
کام تھا کہ کسی جن کی طرح جان کو چمٹا ہوا تھا۔۔۔
آئیے۔۔
شہناز آنٹی اس کےفلیٹ کے نیچے والے فلور پر رہائش پذیر تھیں۔۔
نرم دل خوش مزاج ۔سلجھی ہوئی شخصیت تھی
۔ان میں بچوں کی سی معصومیت تھی
۔کام میں مصروف ہو۔
مجھے اندازہ تھا۔اس کا حلیہ دیکھ کر مسکرائیں۔
جی آنٹی۔۔اسے دل کھول کر شرمندگی ہوئی۔
اس عمر میں بھی وہ نک سکے سے تیار صاف ستھرے کپڑے پہنے باوقار نظر آتی تھیں۔
وہ آدھ گیلے کپڑوں کے ساتھ بنا دوپٹے کے آستینوں کو اڑسے پتیلی دھوتی کسی آ رٹ مووی کا غریب کا کردار لگ رہی تھی ۔
جی آنٹی۔۔
کیا بتاؤں کام تو ایک دوسرے سے سراباندھے نکلتےہی چلے جاتے ہیں ایک کو ختم کرتی ہوں تو ہو تو دوسرا شان سے ان کھڑا ہوتا ہے ۔
۔ یہ تو ہے۔۔۔
تمہیں تو فرصت ہی نہیں ملتی۔
میں نے سوچا کہ میں خود ہی اپنی دوست سے مل آؤ ں ۔
ان کا لہجہ بشاش تھا۔
اچھا کیا اگر آپ میرا انتظار کرتیں تو ہم تو شاید کبھی نہیں مل پاتے۔
اور رگڑ رگڑ کر پتیلی مانجھ رہی تھی۔جانتی ہوں۔۔ ماشاءاللہ تم بہت سمجھدار اور محنتی ہو۔
اللہ ہمت دے اور تمہارے کام میں برکت دے۔
لوگوں کے گھر کے کام نہیں نمٹتے۔تم تو اس کے ساتھ میاں کے کام میں بھی برابر کا حصہ ڈال رہی ہو۔
ان کے الفاظ ہمیشہ اس کا حوصلہ بڑھاتے تھے
۔جی اللہ تعالی کا شکر ہے ۔ اس نے رزق حلال کمانے کا ذریعہ بنایا۔
شکر گزار ہوئی۔
اگر میرا انتظار کرتیں تو ہمیں وہ گانا گانا پڑتا۔۔
کہ شاید کبھی خوابوں میں ملیں۔۔۔۔
وہ اس سے عمر میں کافی بڑی تھیں ان کا بیٹا ملک سے باہر تھا۔
لیکن وہ زونی کو اپنی سہیلی کہتی تھیں۔شوہر کی دوسال سے بستر علالت پر تھے ۔ایک ایکسڈنٹ نے انہیں چلنے پھرنے سے محتاج کر دیا تھا۔
سارا دن بستر پہ لیٹے رہتے تھے تھے۔زونیہ نے یہ فلیٹ بھی کچھ عرصے پہلے ہی خریدا تھا۔سب سے قریبی پڑوسن شہناز آنٹی ہی تھیں۔وہی سب سے پہلے ملنے آئی تھیں اپنی طرف سے ہی طرح کے تعاون کا یقین دلا کر گئی تھیں روز اول سے جو یہ پر خلوص رشتہ دل سے جڑا تھا۔وہ سال گزرنے کے بعد اور مضبوط ہو گیا تھا ۔
زونی کی مصروفیات زیادہ تھیں ۔مہنگائ کے اس منہ زور سونامی میں کراچی جیسے شہر میں چار بچوں کے ساتھ زندگی کا ناطہ جوڑنے رکھنا ایک بہت مشکل امر تھا ۔
اس نے آن لائن فوڈ سروس شروع کر دی تھی کام مشکل تھا وہ اکیلے تھی مگر ہمت اور حوصلہ تھا۔محنت کی جیولری بیچی اور اپنا سر چھپانے کا ٹھکانہ لے لیا۔شہناز آنٹی کے جیسا سہارا مل گیا تھا۔میں تمھارے انکل سے کہتی ہوں کہ بڑی زمہ دار بچی ہے ۔ ہے۔۔۔اس مہنگائی کے دور میں چار بچوں کے ساتھ گذارنا بہت زیادہ مشکل ہے۔مگر کبھی بھی کوئی شکوہ نہیں سنا ۔۔۔
شکوہ کر کے کرنا بھی کیا ہے ۔ ۔زبیر بھی تو پوری محنت سے کام کر رہے ہیں۔ کوئ نکھٹو مرد ہو تو شکوہ بھی کروں ۔وہ بھی جی جان سے محنت کر رہے ہیں۔۔۔
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے اپنی رحمت کے دروازے کھول دیے ہیں۔۔ بہت سے لوگوں سے اچھا رکھا ہے ۔
سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے گھر کا سکون عطا کیا ہے۔
ورنہ پرانا گھر۔۔۔۔
اف میرے اللہ ۔۔۔انتہائ بے سکون اور پریشان کن تھا۔آٹھ سال کس طرح سے گذرے۔۔ میرا دل جانتا ہے۔۔
زبیر کو اس لیے نہیں بتاتی تھی کہ وہ اور پریشان ہوجاتے۔
وہ کچھ پیسے ملے کچھ زیورات بیچے۔اپنے گھر کی کوشش کی دو کمروں کا ہی سہی لیکن اپنا فلیٹ مل گیا ۔اور اس کے حلال کا ذریعہ بھی اسی میں خوش ہوں۔
شکر گزاری بھی ایک نعمت ہے جو اللہ کسی کسی کو دیتا ہے۔وہ خوش دلی سے مسکرائیں۔
السلام علیکم ماما۔۔۔دو گھنٹے گزر گئے تھے بچے شور مچاتے ہوئے مدرسے سے آگئے۔
وعلیکم اسلام شہناز آنٹی نے پرجوش انداز میں جواب دیا۔
اس نے بھی بچوں کو لپٹا لیا۔اس
کی عادت تھی جب بچےباہر سےگھر سے آتے تو وہ گرمجوشی سے استقبال کرتی تھی۔
وعلیکم السلام میرے بچے کیسے ہو۔۔
ہم کو سبق یاد نہیں تھا قاری صاحب نے دو ڈنڈے لگاۓ۔
اشمان نے جھٹ رپورٹ پیش کی۔
مما ایک غلطی آئی تھی قاری صاحب نے صحیح کرنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ڈنڈا اٹھا لیا ۔۔راحم نے صفائی پیش کی۔۔
اور مما اشمان ہم سے آگے آگے چل رہے تھے۔ آپ نے کہا تھا ناں تینوں بھائی ساتھ آیا کرو ۔
مگر یہ ہم سے الگ ہو رہے تھے اس نے بھی اپنا کھاتا کھولا۔
تمہیں کچھوا بن کر تمہارے ساتھ چلوں۔ اس نے آنکھیں نکال لیں۔
تو خرگوش بن کر بھاگنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔
راحم کا جواب حاضر تھا ۔۔یہ لوگ بہت شرارتیں کرتے ہوئے چلتے ہیں۔کسی گاڑی سے ٹکرا گئے تو پتہ چلے گا ۔اللہ نہ کرے ۔۔۔۔ منہ سے ڈھنگ کی بات بات نکالو۔۔۔
اس نےڈپٹا۔
میں بڑا ہوں مگر یہ میری بات نہیں سنتے اور جب غلط کام کرتے ہیں تو آپ مجھے ہی ڈانٹتی ہیں۔
الگ ہے گلے شکوے تھے ۔
بیٹا آپ سب سے بڑے ہو اور بڑے ہو کر بری بات مجھ سے نکالو گے تو چھوٹے بھی پوری ہی بری بات سیکھیں گے۔اس نے ہزاروں بار سمجھای ہوئی بات کو دہرایا ۔
اس امید پر۔
کہ شاید کے تیرے دل میں اتر جائے میری بات۔۔
حذیفہ کے چہرے پر پھیلے ہوئے تاثرات بتا رہے تھے کہ بات سن لی ہے مگر عمل کرنے کا کوئی خاص ارادہ نہیں ہے ہے۔اسی شعر کے مصداق تھا۔
مردناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر۔
وہ ٹھنڈی سانس لے کر رہ گئی۔
اچھا کھانا کھا لو تم لوگوں نے مدرسے جاتے وقت ڈھنگ سے نہیں کھایا تھا۔
نہیں مما۔۔۔
ابھی ہم کھیلیں گے تھوڑی دیر بعد ہی آپ ٹیوشن پڑھانے لگا دیں گی ۔تو کہتے ہیں کہ بچوں کو فزیکل ایکٹیوٹی کرنی چاہیے ۔
وہ شور مچا تے چھت پر چڑھ گئے۔ اپنی مرضی کے مالک ہیں آج کل کے بچے ۔۔۔وہ کچن خشک کر رہی تھی۔
کتنی زندگی ہے تمہارے گھر میں۔۔۔
ایک رنگ اور انداز جدا ہیں۔۔۔
پھول کھلتے ہیں آوازوں کے۔۔۔
کہا ں آنٹی۔۔۔لگے ہوئے آپ کے سامنے ابھی فارغ ہوئی ہوں۔ دماغ کھا جاتے ہیں میرا۔۔۔
مدرسہ کا بیگ ایسا رکھا ہے۔کسی بندے کو ہوا میں پھانسی دے دی ہے۔روز ٹوپیاں گم کرتے ہیں۔ہر وقت فلاور بکھیرا سمیٹےسمیٹے کمر ٹوٹ جاتی ہے۔
ابھی چھوٹے ہیں نا ں۔۔۔مصروف بھی تو کتنے ہیں۔سب کچھ ٹھیک ہوجاتا ہے۔ انہوں نے تسلی دی۔۔چائے بناؤں آپ کے لیے۔۔اس نے پوچھا ۔
انٹی شوگر اور بلڈ پریشر کے مریض تھیں۔اپنے حساب سے ہی کھاتی پیتی تھیں۔
تمہارا دل چاہ رہا ہے تو بنا لو مگر میرے لیے تکلف مت کرنا۔ ابھی کچن دھو کر سارا بکھیڑا سمیٹا ہے۔
نہیں ابھی تو میرا بھی موڈ نہیں ہے۔ میں نے سوچا اگر آپ ساتھ پیئں گی تو میں بھی لے لو ں گی۔۔
تم کھانا کھا لو کہ تم نے بھی کچھ نہیں کھایا ہے۔جب سے آئی ہو جب سے تم کام نہیں کر رہی ہو۔
ابھی بچے نیچے آئیں گے تو ان کے ساتھ کچھ کھا لیں گے۔
وہ فارغ ہو کر ان کے پاس آ گئی تھی۔چھت پر بچوں کے ادھم دھاڑ جا رہی تھی۔
وہ کبھی ان کو ڈانٹتی کبھی آنٹی سے بات کرتی ۔وہ مسکراتی ہوئ اس صورتحال سے محظوظ ہو رہی تھی۔،،🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
آج پلاؤ بنایا تھا۔اس نے سوچا کہ آنٹی کو خود دے کر آۓ۔ایک منزل نیچے ہی رہتی تھیں مگر وہ کبھی کبھار ہی جاتی تھی ۔گھر میں داخل ہوتے ہی سکون کا احساس ہوا۔اس کا فلیٹ بھی سیم اسٹرکچر پر بنا ہو اتھا ۔مگر آنے والے کی پہلی نظر بچوں کے سامان پر پڑتی تھی ۔جبکہ آنٹی کا فلیٹ کم سامان کے ساتھ کشادگی کا تاثر پیدا کر رہا تھا۔۔صاف ستھرا لاونج۔دیوار گیر الماری صاف ستھرا سمٹا ہوا سلیقے کا آئینہ دار کچن ۔۔نظر دور تک جاتی تھی اور مطمئن پلٹ آتی تھی ۔ کہیں کوئی کمی نہیں کوئ بد سلیقگی نہی ۔۔۔اف آنٹی بھی کیا سوچتی ہوں گی میں کتنی پھو ہڑ ہوں ۔۔۔۔۔۔ارے میری دوست آئ ہے ۔ان کا محبت بھرا انداز اسے شرمندہ کر گیا۔۔۔۔انٹی آپ تو جانتی ہیں ۔۔میں ذرا مصروف رہتی ہوں ۔۔۔جانتی ہوں ۔مگر جس طرح تم پر بہت سے فرائض ہیں اسی طرح تمھارے حقوق بھی ہیں ۔جو جسم عطا کیا گیا ہے اس کا بھی حق ہے کی اسے آرام دیا جائے۔ذہن کا بھی حق ہے کہ اس کو سکون دیا جاۓ۔۔کچھ ٹائم نکالا کرو اپنے لیے بھی ۔۔۔وہ اسے لیے ڈراینگ روم میں آگئیں۔نفیس کرسٹل کے شو پیسز سے سجا ۔۔۔
میں تو ایسی چیزیں رکھنے کا سوچ بھی نہیں سکتی ۔۔ کاش میرا گھر بھی ایسے ہی سجا ہو ۔وہ دل ہی دل میں سوچتی بیٹھ گئی۔
باتوں میں وقت کا پتہ ہی نہیں چلا۔ بچوں کے شور سے اندازہ ہوا کہ کافی وقت بیت گیا۔ آنٹی بچے آگئے۔ میں اب چلتی ہوں ۔ ۔۔ہاں ضرور انہو نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
السلام علیکم۔۔۔پاٹ دار آواز گونجی۔
وعلیکم السلام۔۔بچوں نے جواب دیا۔ماں کہاں ہے تمھاری۔۔۔وہ ابھی ابھی لیٹی ہیں تھک گئی تھیں۔صبح سے کپڑے دھو رہی تھیں۔۔راحم نے بتایا۔۔ تھک بہت جلدی جاتی ہے تمھاری ماں ۔ہم بھی کپڑے دھوتے ہیں۔بقلۃ وہ مر کے گھر پانی بھی نہیں آرہا تھا وہ اپنے کپڑے بھی چھوڑ گئی۔اس کے کپڑے دھوئے بھائی ہم تو اس طرح دن دہاڑے نہیں لیٹتے۔انہوں نے اس طرح کہا کہ جیسے ان کی ماں نے لیٹنے کے بجائے دن ڈھارے ڈاکہ مار لیا ہو۔
ابھی تو لیٹی ہیں بس پانچ منٹ بھی نہیں ہوئے۔اشمان نے صفائی دی۔۔اے ہاں بس کر ماں کے چمچے۔۔۔ہم سے اس طرح نہیں لیٹا جاتا۔اور وہ جو ابھی کمر ٹکانے کے لئے لیٹی تھی ان کی آواز سن کر باہر آ گئی۔اسلام علیکم وعلیکم سلام... کر لیا آرام۔۔۔۔ جسم سست ہو رہا تھا۔
تھکن چہرے سے عیاں تھی۔۔مگر وہ صاف نظر انداز کر گئیں۔
کہاں۔۔۔۔آپ جو آگئی حذیفہ نے لقمہ دیا۔۔۔کیسی ہو ۔۔۔اللہ کا شکر ہے وہ ان کے طنزیہ انداز سے خائف ہی رہتی تھی۔میں نے سوچا تمہارے پیروں کی مہندی تو چھوٹے گی نہیں ہم ہی مل۔ آئیں۔
انداز احسان جتا تاہوا تھا۔
اچھا کیا۔۔ میں تو مصروف رہتی ہو ں۔
اے بی ۔۔ رشتہ داری نبھانے کے لیے وقت نکالنا پڑتا ہے ۔ساری دنیا ہی مصروف رہتی ہے تم کون سی نرالی ہو۔وقت کسی کے پاس بھی نہیں ہے مگر معاشرے میں رہنے کے لئے کچھ تک اسی ہیں جن کو پورا کرنا پڑتا ہے۔جی اب اس بات کے جواب میں کیا کہتی۔ایمان جاؤ تائ امی کے لئے چائے بنا کے لاؤ۔۔۔دو ابھی اپنے گھر سے پی کر آئی ہوں۔ایمان ماں کو دیکھا۔اس نے اشارے سے کہا بناؤ تو و ہ کچن میں چلی گئی۔۔تائی کی نظروں نے تو ان کا پیچھا کیا۔اۓ ہاے۔۔۔ایک صبح کے برتن نہیں دھلے۔صبح کے نہیں ہیں دوپہر کے کھانے کے ہیں۔ صبح سے تو مشین لگائی ہوئی تھی ساتھ ساتھ ہی دھو لیے تھے۔ابھی ابھی مشین سے فارغ ہوئی ہوں تو کچن کا کام کروں گیسے دھلوا لیتی ۔ ماشاءاللہ سے بارہ سال کی ہوگئی ہے ۔ہر بچے کی عمر انہیں انگلیوں پر یاد تھی۔وہ دھول تھی مگر وہ خود ابھی ابھی قرآن کلاس سے واپس آئ ہے۔وہ ضبط کر رہی تھی۔ تو اتنے کپڑےجمع کیوں کر لیتی ہو کہ صبح سے شام ہو جائے۔نیا اعتراض حاضر تھا۔بھابھی نے تو شاید فیصلہ کر لیا تھا کہ اس کی رگوں میں میں دوڑتے ہوئے ہر خون کے قطرے کو پوری طرح جلا کر جائیں گی۔مشین خراب تھی اس لیے جمع ہوگئے۔کل ہی مشین ٹھیک ہو کر آئی تھی اس لیے میں نے آج لگا لی۔
تو روز کے بعد ہاتھ سے کھنگال لیتیں ۔۔مشورہ حاضر تھا۔
آپ کو بتایا تو ہے کہ روز کا کام روز ہی کرتی ہوں صبح تو سانس لینے کی بھی فرصت نہیں ہوتی۔پھر بچوں کو دیکھنا ان کو ٹیوشن پڑھانا ۔ہر بچے کے روز کے تین سو ٹ ہوتے ہیں اسکول مدرسے اور گھر کے۔کپڑے جمع ہو جاتے ہیں۔میرے برتنوں کا دھونا اور گھر کی صفائی الگ ہے۔ دن کیسے گزرتا ہے پتا ہی نہیں چلتا۔آپ کے گھر میں تو دو لڑکے ہیں۔صبح کے گھر شام کو آتے ہیں سارا دن نہ کوئی کام نہ کوئی دھندہ۔اور پھر چار افراد کا کھانا ہے کتنا ہوتا ہے ۔تقریبا تیس افراد کا کھانا روز بناتی ہوں۔اسی حساب سے برتن ہوتے ہیں۔ایک دن آپ میرے طرح کام کر لیں تو آپ کو لگ پتا جائے۔اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تھا۔سب کچھ جانتے بوجھتے بھی انجان بن کر اس پر تنقید کرنا ان کا پرانا مشغلہ تھا۔ہمارے گھر میں بھی بہت کام ہیں تمہارے جیسا جب کام سے تشریف لاتے ہیں تو ہر چیز بستر پر ہی چاہیے۔میں بسا کے چکر تو نہیں لگانی پڑتی ہے مجھے تو گھر بھی دیکھنا پڑتا ہے اور بازار سے سامان بھی لانا پڑتا ہے۔میں تو شکر ادا کرنا چاہیے کہ تمہیں میاں شریف ملا ہوا ہے۔تو آپ کو کون سا مولاجٹ ملا ہوا ہے اس کا دل چاہا کہ دے مگر کہہ نہ سکی۔عمان چائے بنا کر لے آئی منہ بناتے ہوئے چائے پی مسلسل کسی نہ کسی بات پر تنقید کرکے اس کا فون پر دماغ اچھی طرح دہی کی جما کر وہ رخصت ہوئیں۔۔ماما آپ صاحب کو بولتے کیوں نہیں ہے ان کے گھر میں تو اتنی گندگی ہوتی ہے کہ پانی پینے کو دل نہیں چاہتا۔چلے جس پہ کوئی ہاتھ لگائے وہ تیل سے چپک رہا ہوتا ہے ۔اور تو اور برتن دھونے کا سینٹ میں بالکل کالا توا لگ رہا ہوتا ہے اگر ہم نے تو کبھی کچھ نہیں کہا۔ایمان کو غصہ آ رہا تھا۔میری بات ہے بیٹا وہ بڑی ہے ایسا نہیں کہتے۔وہ بڑی ہیں تو ان کو بھی سوچنا چاہیے نہ کہ چھوٹوں کو ایسے نہیں کہتے۔کیا حال ہے اور اوپر سے تائی کی تنقید اس کا دل جلا رہے تھے۔۔بادشاہی قبضہ کر رکھو میں تھوڑی دیر آرام کرو گی۔مگر ۔۔ایمان نے کچھ کہنا چاہا۔نہیں بیٹا بری بات آپ مت کہو ۔وہ بچوں کو خاندانی سیاست میں شامل نہیں کرنا چاہتی تھی۔اچھا آپ آرام کریں میں کچن کی صفائی کر لوں گی۔وہ کمرے میں جا کے لیٹی تھکن کی وجہ سے آنکھ لگ گئی گیا اذان کی آواز سے آنکھ کھلی تو وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی تو ایمان کچن کی صفائی کر رہی تھی اور حذیفہ چائے بنا رہا تھا ۔مما آپ کے لیے چائے بنائی ہے۔گرم چائے کا کپ لیے آگیا۔میرا بیٹا میرا بچہ۔۔۔پیار سے ماتھا چوم لیا ساری تھکن اتر گئی تھی 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹۔
آنٹی کے سامنے وہ ہمیشہ دل کی بات کہ دیتی تھی۔اب بھی دل بھرا ہوا تھا۔دل کو کوئی غم گسار چاہیے تھا۔سو دل کی ساری بھڑاس نکال لی۔آنٹی خاموشی سے سنتی رہیں۔ زوبی ۔۔۔کچھ لوگ جانتے بوجھتے ہوئے دوسروں کا دل دُکھانے کے لیے تنقید کے نشتر چلاتے ہیں۔ایسے لوگوں کی باتوں کو دل پر مت لو ۔۔۔وہ ہمیشہ کڑی دھوپ میں سایہ بن جاتی تھیں ۔دل پر کیسے نہ لوں ۔۔خود سارا دن بستر پر لیٹ کر ٹی وی پر نشر ہر ڈرامہ دیکھتی ہیں ۔اپنے گھر کے کاموں میں کوئی دلچسپی نہیں۔اور میرے کاموں میں طنز کے نشتر چلاتی ہیں۔بچے الگ دماغ خراب کرتے ہیں۔۔۔انٹی میں تھکنے لگی ہوں ۔
اوں ہوں ۔۔۔ماں ہو
ماں کو تھکنے کی اجازت نہیں ہے۔
سنا ہے ناں ۔
موت کی آغوش میں جب تھک کر سو جاتی ہے ماں ۔۔۔
تب کہیں جا کر تھوڑا سا سکوں پاتی ہے ماں ۔۔۔
اور تمھارا پسندیدہ لیڈر بھی تو کہتا ہے کہ سکون صرف قبر میں ہے ۔وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولیں۔وہ ہنس دی۔۔۔
سکون قبر کے علاوہ آپ کی باتوں میں بھی ہے ۔یقین جانیئے۔بہت ریلکس ہو جاتی ہوں آپ سے بات کر کے۔۔۔۔۔
تو پھر کیا کرو نا ں بات ۔خوامخواہ فضول لوگوں کی بے سروپا باتیں ذہن پر سوار کر لیتی ہو۔وہ خاتون تو بھول بھال گئی ہو نگی ۔اب کہیں اور بیٹھ کر فسانہ دل سنا رہی ہوں گی اور تم انکے دیے طعنوں کے حصار میں ہو بھول جایا کرو ۔۔۔دنیا اور بھی غم ہیں سسرالیوں کے سوا۔۔۔اپ ٹھیک کہتی ہیں۔وہ نرمی سے مسکرا دی ۔🏠🏠🏠🏠🏠🏠🏠🏠🏠🏠🏠🏠
مما۔۔حذیفہ حلق پھاڑ کر چلایا۔۔الہی خیر۔۔۔وہ۔گھبرا کر کچن سے نکلی ۔راحم نےشاٹ لگا کر میری بال پھینک دی۔اب میں چھوڑوں گا نہیں۔۔۔۔ماما اور انہوں نے تیز بال کرائی تھی میں نے تو ہلکا سا شارٹ لگایا تھا۔وہ بال برابر والوں کے گھر میں چلی گئی۔ وہاں تو سڑیل آنٹی ہیں وہ بال بھی نہیں دیں گی۔اور پتہ چل گیا کہ ہماری ہے تو ڈانٹیں گی۔۔
مجھےنہیں پتا میری بال دو۔۔حذیفہ نے ہنگامہ مچا دیا۔میں کہاں سے دوں ۔۔دونوں لڑنے لگے۔کیا مصیبت ہے ایک تو چھت پر چڑھ کر کرکٹ کھیلتے ہو۔اور بال گم ہو جائے تو جھگڑا کرتےہو ۔میں اپنے پیسوں کی لایا تھا میں راحم سیے ہی لوں گا ۔۔میں نہیں دونگا ۔وہ پھر جھگڑ نے لگے ۔چپ کرو دونوں۔۔۔ ہر وقت اور ہر وقت لڑائی جھگڑا۔۔۔پاگل بنا دیا ہے تم لوگوں نے مجھے۔۔اللہ سمجھے تم لوگوں سے۔۔۔اللہ نہ کرے۔ آنٹی نے دہل کر کہا ۔۔زوبی بھرا وقت ایسے نہ کہو۔۔۔۔انہوں نے سیڑھیوں پر اس کی آواز سنی تھی۔فورا ٹو کا ۔سکون سے بیٹھے ہی نہیں ہیں میں کیا کروں۔ہمیشہ اچھا ہی مانگا کرو۔اللہ قبول کرنے والا ہے نہ جانے کب کی قبول کرلے۔۔۔بچوں کے معاملے میں وہ خاصی وہمی تھیں خود بھی کبھی کوئی برا لفظ منہ سے نہ نکالتی تھیں۔جی ۔۔وہ چپ ہو گئی۔۔اس کے بولے گئےجملےواقعی قبولیت کے وقت میں نکلے تھے۔
مگر اسے بالکل علم نہیں تھا کہ زندگی اسے کون سا رخ دکھانے والی ہے۔ ۔
😞😞😞😞😞😞😞😞😞😞
گھر میں ہو کا عالم تھا۔بچے سہمے ہوئے تھے۔ایمان بھی چپ تھی ۔سب بچے کر ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔زونیہ کی نگاہیں حذیفہ پر تھیں جس کے چہرے پر تکلیف کے آثار تھے۔کل مدرسے سے آتے ہوئے اسے رکشے ہی ٹکر مار دی تھی۔وہ زمین پر گر پڑا تھا۔والی چوٹ سے ران کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔کو چودنے کی کوشش کی مگر ابھی کہاں ہوں ڈاکٹر نے آپریشن کی کہا۔۔۔موت کا سا سناٹا چھا گیا تھا۔وہ سر جھکائے آنسو بہا رہی تھی۔زونی ۔۔۔۔ہمدرد مہربان آواز سن کر اس نے سر اٹھایا ۔الٹی کو دیکھ کر آنسو اور تیز رفتار سے بہنے لگے۔آنٹی نے اسے ساتھ لگا لیا۔صبر کرو زندگی آزمائش کا دوسرا نام ہے ۔اس طرح ہمت ہارو گی توبچوں کو کیسے سنبھالو گی۔دیکھ حذیفہ کتنا بہادر ہے اتنی بڑی تکلیف میں مبتلا ہونے کے باوجود بھی چپ ہے۔اور تم بچوں کی طرح رو رہی ہو۔میرا بچہ۔۔۔اس نے برستی آنکھوں سے بچے کو دیکھا۔میں ٹھیک ہو جاؤں گامما۔۔۔اس نے اسے ماں کا روتا چہرہ دیکھا نہ گیا ۔۔
میرا بیٹا کیوں نہیں ۔۔۔بہت جلد تم ٹھیک ہو جاؤ گے۔اللہ نے چاہاتو ۔جی۔میں بھی مما کو یہی کہہ رہا ہوں کہ میں ٹھیک ہوں مگر وہ روۓ چلی جا رہی ہیں۔۔مجھے پتہ ہے۔تم بہت بہادر بچے ہو۔میں تمہارے لئے کیا لائ ہوں تمھیں ڈرائنگ کرنا پسند ہے نا۔اس میں وائٹ بھی ہے اور لیڈر بھی ہے ڈرائنگ بھی کرنا اور ا بھائیوں کے ساتھ کھیلنا۔۔
جی یہ تو بہت اچھا ہے۔۔وہ خؤش ہو گیا ۔میں لیٹے لیٹے بور ہو جاتا ہوں یہ لوگ تو چپ رہتے ہیں میرے ساتھ کھیلتے ہی نہیں۔اس نے شکایت کی۔۔انہوں نے ایک نظر بچوں پر ڈالی ۔سب انتہائی سنجیدہ تھے۔کسی نے ان بھاگتے دوڑتے جسموں سے جان نکال کر مجھے اس نے بنا دیا ہو۔آنٹی مجھ سے یہ سب کچھ برداشت نہیں ہو رہا۔یہ سناٹا میری روح کو کھا رہا ہے۔صبر کرو بچوں کو چوٹیں لگتی ہی رہتی ہیں۔انکل کو دیکھو دو تین سال سے بستر پر پڑے ہیں۔مگر میں نے امید نہیں چھوڑی۔یہ تو بچہ ہے انشاءاللہ ہڈی جڑنے کے بعد میں دیکھنا کیسے اچھل کود کرے گا۔۔۔زونی نے ان باہمت خاتون کو دیکھا۔۔ جو بنا ماتھے پہ شکن لائے۔معذور شوہر کی خدمت کر رہی تھیں۔زونی کے دل کو قرار آنے لگا۔🌄🌄🌄🌄🌄🌄🌄🌄🌄🌄
مسلہ دنوں میں ٹھیک ہونے والا نہیں تھا حذیفہ کا آپریشن تو ہو گیا تھا اسے ایک ماہ تک بیڈ پر رہنا تھا۔میں سب جیسے روبوٹ کے مانند کام کرتے تھے ۔چہل پہل رونق شورشرابہ سب کچھ ختم ہوگیا تھا۔گھر کا ماحول کیسا عجیب ہو گیا ہے نا آنٹی۔۔وہ یاسیت سے بولی۔تم ایسا ہی تو چاہتی تھیں۔۔آنٹی کالہجہ افسوس بھرا تھا۔
میں ۔۔۔بھلا ایسا۔۔۔کب ۔۔۔وہ حیران ہوئی۔
تمہاری ہی تو خواہش تھی کہ بچے روبوٹس بن جائیں شور نہ کریں۔پھیلاوا نہ کریں۔۔تو ہو گیا سب ۔۔۔
مگر اس طرح نہیں۔۔
زونی تم خود محسوس کرو مجھے ایک مہینے سے تمہارا گھر بالکل لقبرستان لگنے لگا ہے ۔۔تم جانتی ہو میں تمہارے گھر کیوں آیا کرتی تھی۔مجھے میرا گھر قبرستان لگتا تھا مردہ لگتا تھا۔۔تمہارے انکل بیڈ پر ہیں۔اکلوتی اولاد نے دیارغیر بسا لیا۔مردہ گھر میں زندہ تھی ۔جو چہرہ تو کوئی اٹھانے والا نہیں۔کہیں کوئی آواز نہیں کہیں کوئی چہل پہل نہیں۔۔کوئ زندگی کی رمق نہیں۔جب تمہاری عقل جواب پر جاتے تھے تو میرے گھر میں بھی آواز گونجتی تھیں۔میرا سوٹ استری کر دو میرا جوتے پالش کر دو۔میرا بٹوا کہاں ہے۔فائل سنبھال کے رکھی تھی ناں ۔۔۔زندگی سے بھرپور منظر تھے۔مگر جب سے ان کے ساتھ حادثہ ہوا ہے وہ بھی بالکل چپ ہو گئے ہیں۔تمہیں شاید یقین آئے کہ مجھے تمہارے گھر کا پھیلا ہوا سامان۔بچوں کا شور شرابہ۔جھگڑنا اچھا لگتا تھا۔تمھارا گھرزندہ لگتا تھا۔جہاں آوازیں گونجتی ہیں خوشیاں جاگتی ہیں۔زندگی موجود ہے۔صدر میں دیکھتی ہوں کہ جب میرے موتی اگر میرے گھر میں رہتے تو ایسی رونق لگتی۔اپنی تنہائی سے اور اپنے گھر کی مردہ دیواروں سے طرح اگر میں تمہارے گھر میں پناہ لینے آتی تھی۔جو شور شرابہ تم کو عذاب لگتا تھا وہ مجھے زندگی کی امنگ لگتا تھا۔تمہارے گھر میں اچھے ہیں مگر کو رونق نہیں ہے۔سلیقہ تو ہے مگر بچوں کا پھیلاوے سے زندگی زندگی کا احساس نہیں ہے ۔اور جو آج مما کہتےتمہارے آگے پیچھے پھرتے ہیں۔کل جانے کہاں جا کر بس جائیں کہ تم ان کی آواز کو بھی ترسو۔کتنے سال کا ہے ان کا بچپن دس سال پندرہ سال۔یہ بڑے ہوجائیں گے اپنے لئے نہیں آسمان ڈھونڈیں گے۔جہانوں کی تلاش میں کبھی کبھی پرواز اتنی طویل ہو جاتی ہے کہ نگاہیں ترس جاتی ہیں جی ہر مسلہ تمھیں سنانے کے لئے بے چین رہتے ہیں کل تم ان سے بات کرنے کو بھی ترس سکتی ہو۔تمہاری زندگی کا ایک رنگ ہے اسی رنگ میں جینے دو۔بچپن جو ایک خاص وقت کا نام ہے اس کے بعد کہاں رہتا ہے ۔یہ تو بچوں کے یادوں کا کرنے کا ایک مخصوص وقت ہے۔کی باتوں میں آکر اپنے ہی بچوں کو ڈانٹنا ان پر جھنجھلا نا۔۔ کہاں کی عقلمندی ہے۔انٹی کا لفظ لفظ اس کے دل میں اتر رہا تھا۔اپ کہتی ہیں آنٹی۔۔مجھے میرے گھر میں زندگی کو زندہ رکھنا ہے۔اس نے مسکرا کر جواب دیا۔آنٹی کے لبوں پر نرم مسکراہٹ پھیل گئی۔،،⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐ حذیفہ مکمل صحتیاب ہو گیا تھا۔اس کی خوشیوں اس میں قریبی رشتے داروں کو بلا کر دعوت کی تھی۔اس کے گھر کی رونق لوٹ آئی تھی۔بہت شور مچاتی ہیں تمہارے بچے ہیں ان کو منع کرو۔تائ بے زار سی بیٹھی تھیں ۔شور تو بڑے بھی بہت مچاتے ہیں۔بچے ہیں اگر بچے ہیں اور نہ مچائیں تو پر بچے کیسے کہلائیں۔۔اس نے پرسکون انداز میں جواب دیا۔پھر بھی کوئی سلیقہ ہوتا ہے کوئ تمیز ہوتی ہے ۔اچھا تو بچہ ہوتا ہے تمہاری چاہیے ولی ہی کیوں نہ ہو۔آپ سے بہت بحث میں کون جیتے تم بہت پڑھی لکھی ہو تمہارے اپنے ہی اصول ہیں۔وہ منہ بنا کر بیٹھ گئیں غباروں کا پیکٹ بچوں کے حوالے کردیا۔۔
اب غبارے بھی دے دیے پہلے ہی کیا کم پاگل ہو رہے تھے۔ان کی تیوری چڑھ گئ۔اللہ نہ کریں گے جو بچے پاگل ہوں بہن خیر کی بات منہ سے نکالو۔آنٹی نے فورا ٹوک دیا۔تائ کے چہرے کے ساتھ مزید بگڑ گئے۔
دنیا نے ان کونظر انداز کر دیا۔ان کی تیاری کے بعد سیدھے کرنے کے چکر میں اپنے بچوں کی خوشیاں نہیں چھین سکتی تھی۔ان پلوں کو بالکل برباد نہیں کر سکتی تھی جس میں اس کے بچے خوش تھےجو ان کی یادوں میں ہمیشہ زندہ رہنے والے تھے۔۔بچوں کی آواز میں سے گھر گونج رہا تھا۔اس کے گھر کی دیواروں میں آوازیں زندہ تھیں۔وہ آسودہ سانس لے کر مسکرا دی۔زندگی پھر مسکرا رہی تھی۔
ختم شد۔
نیر فہیم خان


0 تبصرے