اعتبار ۔

 دھیرے سے تھاما 

تم نے میرا ہاتھ 

گنگناتے لمحے 

 ٹھہر سے گئے 

اڑتے بادلوں نے

لہلہاتے پھولوں سے 

سرگوشیاں کیں 

ہم چپ تھے 

مگر 

منظر کہ رہے تھے 

چاہت کے لمحوں سے سجا 

یہ ماحول 

 اعتبار پر قائم ہے 

 نیر فہیم خان 





ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے