دھیرے سے تھاما
تم نے میرا ہاتھ
گنگناتے لمحے
ٹھہر سے گئے
اڑتے بادلوں نے
لہلہاتے پھولوں سے
سرگوشیاں کیں
ہم چپ تھے
مگر
منظر کہ رہے تھے
چاہت کے لمحوں سے سجا
یہ ماحول
اعتبار پر قائم ہے
نیر فہیم خان
دھیرے سے تھاما
تم نے میرا ہاتھ
گنگناتے لمحے
ٹھہر سے گئے
اڑتے بادلوں نے
لہلہاتے پھولوں سے
سرگوشیاں کیں
ہم چپ تھے
مگر
منظر کہ رہے تھے
چاہت کے لمحوں سے سجا
یہ ماحول
اعتبار پر قائم ہے
نیر فہیم خان
سفرنامہ/مضامین/گھراورگھرانہ
۔ نیر فہیم خان گول گلی کچھ انوکھی ہی تھی ۔چھوٹی بڑی گلیوں کے بیچ یہ متوسط طبقے کا علا…
0 تبصرے