میرے دل کا کاغذ کورا تھا
تو نے چپکے سے
میرے دل کے
کورے کاغذ کو
اپنے نام سے سجا دیا
تیرے نام کی خوشبو
میرے وجود میں بس گئی
روح کو معطر کر گئ۔
اب
رب سے التجاء ہے
یہ نام میری پہچان بن جائے
یہ خوشبو
میرا سائباں بن جائے۔
نیر فہیم خان
سفرنامہ/مضامین/گھراورگھرانہ
۔ نیر فہیم خان گول گلی کچھ انوکھی ہی تھی ۔چھوٹی بڑی گلیوں کے بیچ یہ متوسط طبقے کا علا…
0 تبصرے